پپو بمقابلہ گپو


محمد اشتیاق سلفی 

مشہور برطانوی سیاستداں اور معلم اخلاق لارڈ ایکٹن نے کیا خوب کہا تھا Power Corrupts and absolute power corrupts absolutely یعنی اقتدار بد عنوان بنا دیتا ہے اور مکمّل اقتدار مکمل طور پر بد عنوان بنا دیتا ہے
مجھے نہ تو سیاست سمجھ میں آتی ہے اور نہ ہی کرنی بلکہ میں سیاست کرنے سے اسی طرح بھاگتا ہوں جس طرح سے گپپو جی اقلیتوں کے مسائل پر اور رافیل پر بات کرنے سے ہندوستان میں مسلمان اس وقت بالکل کسمپرسی کی زندگی گزار ر ہے ہیں اور ان کی سمجھ میں یہ نہیں آ رہا ہے کہ وہ 2019 میں کس کو اپنا مسیحا سمجھ کر ووٹ دے کیا آزادی کے بعد سے لیکر 2014 تک مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیت سے دو چار کر نے والی پارٹی کانگریس کو جس نے کبھی بابری مسجد سے مسلمانوں کو بے دخل کیا تو کبھی مسلم نوجوانوں کو منظم منصوبہ کے تحت سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا یا گپو جی کی پارٹی کو جس نے حالیہ ساڑھے چار سالوں میں عام انسانوں کا جینا محال کر رکھا ہے اور جمہوریت کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے کبھی گائے کے نام مسلمانوں کا بے جاخون بہایا تو کبھی پچہ چوری کے الزام میں بے گناہ مسلمانوں کی جان لی تو کبھی نوٹ بند کر کے پوری عوام کا چین وسکون تک سلب کر لیا. تو کبھی جی ایس ٹی کی مار سے تاجروں کی کمر توڑ کر رکھ دی اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ ہمارا ملک جو گنگا جمنی تہذیب کے لیے پوری دنیا میں ایک الگ ہی پہچان رکھتا ہے اس کو بھی اپنے اقتدار (کرسی)کیلئے داؤ پر لگا دیا ہے جوہم سب کے سامنے ہے اور ان ساڑھے چار سالوں میں ایسے ایسے فیصلے لئے گئے ہیں کہ چند بڑے سرمایہ داروں کو چھوڑ کر سب عقل ٹھکانے لگ گئی ہے. سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرہ کے ساتھ اقتدار میں آنے والے گپو کی سرکار نے اقلیتوں اور دلتوں پر ظلم و ستم کی وہ داستان رقم کی جسکی مثال جمہوری ہندوستان میں کبھی دیکھنے کو نہیں ملی خیر اقلیتوں بطور خاص مسلمانوں کی بات جانے دیجئے کیونکہ اس سرکار کے ایجنڈے میں ان کیلئے وکاس نہیں وناش ہی لکھا ہے اور یوں بھی خود انہیں اپنی ترقی کی فکر کب رہی کہ کوئی دوسرا ان کے بارے میں سوچے حیرت تو یہ ہے کہ جس طبقہ نے سب سے زیادہ مودی مودی کا نعرہ لگایا اس پر بھی عرصہ حیات تنگ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا دلتوں اور پچھڑوں کا وہ گروہ جس نے گپو کو اقتدار دلانے میں سب سے زیادہ جی جان سے محنت کی جسے ذلتوں اور جان و مال کے نقصان کے علاوہ کچھ نہ ملاکیا اس کے سامنے بھی اس حکومت کی ناپاک منصوبہ بندی آشکار ہو سکی یا اب بھکتی ہی چل رہی ہے. بات تو ہوئ تھی سب کے وکاس کی لیکن وہ کہیں نظر نہیں آیا البتہ اقتدار سنبھالتے ہی گپپو حکومت نے جس طرح جمہوری نظام اور اداروں پر مہلک حملے کئے اس نے جمہوریت کو ہلا کر رکھ دیا ملک کی تاریخ کو بھی جس طرح مسخ کرنے کی گئی کوشش کی وہ جگ ظاہر ہے اور اسی طرح گپپو جی نے ان ساڑھے چار سالوں میں جتنے ودیشی دورے کئے ہندوستان کے تمام وزیر اعظم نے ملکر بھی اتنے دورے نہیں کئے ہوں گے. ایک طرف غریب کی بچی بھارت بھارت کہتے ہوئے جان دے دیتی ہے اور دوسری طرف عوامی ٹیکس کے پیسے کو اپنی عیاشی کے لیے بے جا استعمال کیا جا رہا ہے اب وقت آگیا ہے کہ عوام ہوش کے ناخن لیں اور اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اگر آپ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال نہیں کریں گے تو پھر بد سے بدتر حالات دیکھنے اور جھیلنے کے لیے تیار ہو جایئے
  آپ غیر جانبدار ہو کر مذہب وذات سے آٹھ کر اسی کو ووٹ دیں جو حقیقی معنوں میں میں ووٹ کا حق دار ہو. اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکے. گپو کو تو دیکھ لیا کیا حرج ہے اگر ایک بار پپو کو بھی آزما لیا جائے. اتنی بات تو طے ہے کہ اگر پپو وکاس کی دھارا نہ بھی بہا سکا تو کم از کم وناش پرش بھی ثابت نہیں ہوگا 

محمد اشتیاق نعمانی عشورہ 
رالعلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ 
Mob No 9122019025

Comments