نیکی میں رغبت کیجئے
رمضان المبارک کا مہینہ ہمارے اوپر سایہ فگن ہے اور اس کی رحمتوں کی برسات ہماری زندگیوں کو سیراب کرنے کے لیے برس رہی ہے، اس مہینہ کی عظمت و برکت کا کیا ٹھکانہ جسے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہر عظیم اور شہرمبارک کہہ کر پکارا ہو یعنی بڑی عظمت والا اور بڑی برکت والا مہینہ، نہ ہمارا تصور اس ماہ کی عظمت کی بلندیوں کو چھو سکتا ہے نہ ہماری زبان اس کی برکتوں کا احاطہ کر سکتی ہے
رمضان المبارک نیکیاں کمانے کے لیے ہے، اللّٰہ تعالیٰ مومنوں کو متعدد طریقے سے اس مہینے میں بھلائی سے نوازتا ہے ہمیں ان بھلائیوں کے حصول کے لیے اور نیکیوں سے مستفید ہونے کے لیے برضا و رغبت ایک خاکہ تیار کرنا چاہیے تاکہ ہر قسم کی بھلائیاں سمیٹ سکیں_ سمجھ کر قرآن پڑھنے کا اہتمام، پنج وقتہ نمازوں کے علاوہ نفلی عبادات، صدقہ و خیرات، ذکر و اذکار، دعا و مناجات،طلب عفو و درگذر،قیام اللیل کا خاص خیال،روزے کے مسائل کی معرفت،بشمول رمضان المبارک کے مستحب اعمال،اعمال صالحہ پہ محنت و مشقت اور زھد و تقویٰ سے مسلح ہونے کا مکمل خاکہ ترتیب دیں اور اس خاکے کے مطابق رمضان المبارک کا روحانی و مقدس مہینہ گزاریں
رمضان المبارک میں ہر چیز کا ثواب دو گنا ہو جاتا ہے اور روزے کی حالت میں نیک کام کرنا مزید اضافہ حسنات کا باعث ہے، اس لیے اس موسم میں معمولی نیکی بھی گراں قدر ہے ہر نماز کے لیے مسواک کرنے کی کوشش کرنا،اذان سے پہلے مسجد پہنچ کر اذان کا انتظار کرنا،اذان اور اقامت کے درمیان رب تعالیٰ سے دعا و مناجات کرنا،تراویح میں پیش پیش رہنا، لوگوں کے لیے سحری و افطاری کا بندوبست کرنا، لوگوں کو نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔
غرباء اور مساکین کو یاد رکھیے:
رمضان وہ مہینہ ہے جس میں ہر کوئی نیکیوں میں مسابقت چاہتا ہے، ہمارے اردگرد کتنے ہی ایسے لوگ بستے ہیں جن کے پاس سحری و افطاری کے لیے پیسے میسر نہیں ہوتے ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسے لوگوں کو ابھی سے یاد رکھیں اور ان کے لیے رمضان راشن مہیا کریں کسی غربت کی مدد کرنے سے اللّٰہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے گا جیسا کہ ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مَن نَفَّسَ عن مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِن كُرَبِ الدُّنْيا، نَفَّسَ اللَّهُ عنْه كُرْبَةً مِن كُرَبِ يَومِ القِيامَةِ، وَمَن يَسَّرَ على مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللَّهُ عليه في الدُّنْيا والآخِرَةِ، وَمَن سَتَرَ مُسْلِمًا، سَتَرَهُ اللَّهُ في الدُّنْيا والآخِرَةِ، واللَّهُ في عَوْنِ العَبْدِ ما كانَ العَبْدُ في عَوْنِ أَخِيهِ
مسلم (٢٦١ هـ)، صحيح مسلم ٢٦٩٩ • [صحيح] • شرح الحديث
جس نے اپنے بھائی سے دنیا کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کی تو اللّٰہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن پریشانیوں میں سے ایک پریشانی کو دورکر دے گا جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو اللّٰہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کے (عیبوں) پر پردہ ڈالےگا جس نے کسی مسلمان کے لیے آسانی پیدا کی اللّٰہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کے لیے آسانیاں پیدا فرما دےگا اللّٰہ اس وقت تک بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے
اپنی زندگی میں بہترین تبدیلی لائیے:
قارئین کرام! ہماری زندگی میں کتنے ہی رمضان آ ئے اور مزید کتنے ہی آئیں گے، مگر اس بار ابھی سے کوشش کریں کہ اس رمضان میں ہمیں اپنے اندر حقیقی تبدیلی لانی ہے اور یہ بات بھی یاد رکھیں کہ تبدیلی صرف رمضان کے لیے نہیں بلکہ سال بھر کے لیے ہو، ایسے بہت سے لوگ ہیں جو رمضان کے نمازی ہوا کرتے ہیں اور رخصت ہوتے ہی نماز سے بلکہ یہ کہیں اللّٰہ سے ہی غافل ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ابھی سے کوشش کی جائے کہ یہ تبدیلی عارضی تبدیلی نہ ہو بلکہ دائمی تبدیلی ہو۔ کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کی بندگی موت تک کے لیے، جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَٱعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتَّىٰ یَأۡتِیَكَ ٱلۡیَقِینُ(سورۃ الحجر: 99)
اور اپنے رب کی عبادت کیجیے یہاں تک کہ تیرے پاس یقین(موت) آجائے۔
طالب دعا
قرۃ العین منظر (چانن،مدہوبنی)
متعلم ( دارالعلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ
Comments
Post a Comment