ابوالکلام سے مولانا آزاد تک

محمد اشتیاق نعمانی 

مولانا آزاد کا جب بھی ذکر آتا ہے تو تو ذہن میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ کہ وہ بہت بڑے علامہ، فلسفی، مفسر، قائد، دوراندیش،  سیاستداں،  صحافی،  اور نہ جانے کیا کیا ہیں اور یہ تمام باتیں سچ بھی ہیں لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے  کہ یہ تمام صفات ایک شخص میں کیسے جمع ہوگئیں ان تمام چیزوں کو انہوں نے نے کیسے حاصل کیا ان کے حصول میں کیا کیا پریشانیاں برداشت کرنی پڑیں اس کا تصور کرنا بھی محال ہے مولانا آزاد نے ایک ایسے ماحول میں آنکھیں کھولیں  جہاں علم و فضل کے ساتھ ساتھ تعظیم و تکریم کا بول بالا تھا ان کے والد متحدہ ہندوستان کے بہت بڑے پیر تھے اورلوگ ان کے اندھے مقلد تھے  پیر زادہ ہونے کی وجہ سے ہر کوئی مولانا کے بھی ہاتھ پاؤں چومتا تھا  اور ان سے اظہار عقیدت کرتا تھا اور کوئی ہوتا تو معتقد بن کے اس رویے پر  پھولے نہیں سماتا لیکن یہ سب چیزیں دیکھ کر مولانا کو فطری طور پر بہت عجیب لگتا تھا اور وہ اسے ناپسند کرتے تھے  یہ اللہ تعالی کی طرف سے عطا کردہ دا خدا غیر معمولی ذہانت کا اثر تھا "مولانا ابوالکلام آزاد کا خاندان مذہبی رنگ میں رنگا ہوا تھا اس خاندان میں دو تین سو برس سے درس و تدریس وعظ و ہدایت شرف و شرافت کی روایت تسلسل اور تواتر کے ساتھ چلی آرہی تھی  گھریلو ماحول پر تقلید اور جمود کی حکمرانی تھی اس قلعے کی چاردیواری میں تازہ ہواؤں کا گزر ممکن نہ تھا" ایسی فضا میں پرورش پانے کا مطلب یہ تھا کہ کہ اپنی خاندانی شان وشوکت کو دیکھ کر اسی میں میں سرشار ہو جاتے  جس طرح اکثر بڑے بڑے پیروں اور پیشواؤں کی اولاد اپنے موروثی عزت و احترام کی وجہ سے جاہل اپاہج بن کر رہ جاتی ہے لیکن مولانا کا دل زیادہ دن اس پر راضی نہ رہ سکا کا انہیں لگا کہ یہ ان کی منزل نہیں ہے انہوں نے منزل کی تلاش شروع کردی اس کے لیے انہوں نے نے مطالعہ اور کتب بینی کا راستہ اختیار کیا اور دنیا کے اکثر مذاہب کی کتابیں کم عمری میں پڑھ لیں  تاکہ منزل مقصود تک پہنچ سکیں کثرت مطالعہ نے ان کی صحت کو بھی متاثر کیا لیکن ان کے ذوق مطالعہ کو متاثر نہ کر سکا اس سلسلے میں خود مولانا ذکرآزاد میں  لکھتے ہیں کہ مذہب کے بارے میں انسانی عقائد کی جتنی اصولی قسمیں ہیں ان میں سے کوئی قسم ایسی نہیں جو کچھ عرصے تک مجھ پر حاوی نہ رہ چکی ہو ہ مسلسل نو برس خاک چھاننے کے بعد  اپنی منزل مقصود پائی دین کے سلسلے میں جتنے شکوک و شبہات  تھے وہ سب ختم ہوگئے  لیکن اب ایک اور امتحان  تھا وہ یہ کہ تمام فرقوں کو موحد مومن کیسے بنایا جائے اس کے لیے انہوں نے بہت کوشش کی اور بڑی حد تک کامیاب رہے ہے اس کے بعد ملک میں جنگ آزادی کی تحریک شروع ہوئی اور مولانا اس میں مشغول ہوگئے  اپنے انقلابی جرائد و رسائل نکال کر تحریک آزادی میں روح پھونکی  یہاں تک کہ ملک آزاد ہوگیا اور مولانا آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم بنے اگر مولانا آزاد پیری مریدی کی اپنی خاندانی وراثت کوہی سنبھالتے تو پیر آزاد تو ہو سکتے مگر وزیر تعلیم آزاد نہیں ہو سکتے تھے مفسر نہیں ہو سکتے تھے لیڈر نہیں ہو سکتے تھے شاعر ادیب صحافی نہیں ہو سکتے  تھے یہ ساری صفات اور خوبیاں مطالعہ کی مرہون منت ہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ تعالی کی عادت ڈالیں تاکہ صحیح منزل سے آشنائی ہو سکے. مطالعہ سے انسان کے ذہن و فکر میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور چیلنجیز قبول کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے زندگی میں  رسک (Risk(لینے سے ہی انسان بڑا بنتا ہے ساتھ ہی ہمیشہ آگے بڑھنے کی جدوجہد کرتے رہنا چاہیے یے کیونکہ دنیا میں کوئی منزل آخری منزل نہیں ہوسکتی. بقول شاعر

  • کوئی منزل آخری منزل نہیں ہوتی فضیل
     زندگی بھی ہے مثال موج دریا راہ رو
                (فضیل جعفری)
    محمد اشتیاق نعمانی سلفی
    عشورہ 
    دارالعلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ 
    موبائل نمبر 9122019025

Comments

  1. I like,,,,,,,,, your topic,,,,

    ReplyDelete
    Replies
    1. شکریہ جزاک اللہ خیرا و احسن الجزاء

      Delete
  2. I like,,,,,,,,, your topic,,,,

    ReplyDelete
    Replies
    1. شکریہ جزاک اللہ خیرا و احسن الجزاء

      Delete
  3. مولانا آزاد کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی

    ReplyDelete

Post a Comment