رمضان المبارک برکت کا مہینہ
محمد اشتیاق سلفی
ماہ رمضان کا نام سن کر ہمارے ذہن میں روزہ،بھوک ،پیاس
اور تکلیف ہی آتی ہے مگر رمضان کا مطلب اس کے بالکل مخالف ہے،رمضان کے معنٰی ہیں”جل جانا “کسی مہینے کے نام کا مطلب
ایسا ہونا یہ بتاتا ہے کہ اس میں ضرور کوئی حکمت چھپی ہوئی ہے۔ لہذا جل جانے سے مراد یہ ہے کہ رمضان نیکی کرنے کا مہینہ ہے یوں تو سارا سال نیکیا ں کرتے رہنا چاہیے مگر اس ماہ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں نیکیوں کا اجر بڑھ جاتا ہے اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ نیکی گناہوں کو جلا دیتی ہے جس طرح آگ سوکھے پتوں کو جلا دیتی ہے۔ماہ رمضان کے بے شمار فضائل ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ رمضان کی ہر رات جہنم سے قیدیوں کو آزاد کیا جاتا ہے،اس ماہ میں رب کی طرف سے ایک خاص عبادت کا حکم ہے جسے روزہ کہا جاتا ہے،روزہ رکھنے کا مقصد صرف بھوک پیاس برداشت کرنا نہیں بلکہ روزہ ہمیں غریب لوگوں کا احساس دلاتا ہے کہ ہمارے آس پاس کتنے غریب لوگ ہیں جو بھوک سے دو چار ہوتے ہیں مگر ہمیں انکی مدد کا خیال نہیں رہتا،روزہ نا صرف اس بات کا سبق دیتا ہے بلکہ ہر طرح کی برداشت اور صبر و تحمل کا درس دیتا ہے اور ہر طرح کی برائی ایسی چیزیں جو انسان کی ذات اور انسانیت کے خلاف ہیں سب سے روکتا ہے چنانچہ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ روزہ آدمی کے لیے ڈھال ہے جس طرح انسان ڈھال سے دشمن کا مقابلہ کرتا ہے اسی طرح انسان کے لیے روزہ ہے کہ انسان روزے کی حالت تمام گناہوں سے رکنے کی کوشش کرتا ہے،جس میں جھوٹ غیبت اور دیگر گناہ شامل ہیں،روزہ اجر و ثواب کے ساتھ ساتھ انسان کی عادت بدلنے کا بھی ذریعہ ہے مگر بد قسمتی سے ہم جہاں رمضان کے پہلے دن ہوتے ہیں عید کے دن واپس اُسی جگہ کہڑے رہتے ہیں۔
پورا ماہ بھاگ بھاگ کر مساجد میں پہنچنے والے عید کے دن فجر کی نماز جو کہ فرض کی گئی ہے چھوڑ کر عید گاہ کی طرف چل پڑتے ہیں،جہاں پورا ماہ جھوٹ اور غیبت سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں عید کے دن اپنے دوست احباب اور رشتہ داروں کے ساتھ مل کر سب سے پہلے وہی کام کرتے ہیں۔تاہم ماہ رمضان کا ہمیں کچھ خاص فائدہ نہیں ہو پاتا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اس ماہ فضلیت ہی سنائی جاتی ہے اس کے مقاصد کی طرف کسی خطیب کی نظر نہیں جاتی۔رمضان کی فضیلت کا اندازہ اس بات سے ہو جاتا ہے کہ اس ماہ میں اللّٰہ پاک مسلمانوں کا رزق بڑھا دیتا ہے جو کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے ہمارے تاجروں کا کاروبار سب سے زیادہ رمضان میں چمکتا ہے۔۔۔
ان چیزوں کے علاوہ ایک خاص نعمت ماہ رمضان میں نفل نماز کی صورت میں دی گئی ہے جس کو ابتداء اسلام میں قیام الیل اور موجودہ دور میں نماز تراویح کہا جاتا ہے،مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ چند شر پسند مولوی ایسی نماز جس کو رب تعالٰی نے مسلمانوں
پر فرض یا واجب نہیں کیا اُسے واجب اور فرض کا درجہ دینے کی کوشش کرتے ہیں اور امت مسلمہ کو صدیوں سے اس مسئلے میں اس قدر الجہا رکھا ہے کہ امت کو کئی گروہوں میں تقسیم ہوئی ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص نفلی نماز یعنی تراویح ادا کرنے ایسی
مسجد چلا جائے جہاں 20رکعات پڑھی جاتی ہیں اور8 پڑھنا چاہتا ہے تو اسے تنگ نظری اور بے شمار طعنوں سے نوازا جاتا ہے،اسی
طرح آٹھ رکعات والوں کا بھی معاملہ ہے اور بعض مقامات ایسے ہیں کہ جہاں بڑی بڑی لڑائیاں ہو جاتی
خدا راہ امت مسلمہ کے اتحاد کا ذریعہ بنو نا کہ انتشار کا ۔یاد رہے کہ اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے مسلمانوں پر جو نمازیں فرض کی گئی ہیں وہ فجر کے دو ظہر کے چار عصر کے چار اور مغرب کے تین اور عشاء کے چار فرائض یعنی یہ کل ستراں رکعات ہیں جو کہ رب تعالٰی کی طرف سے فرض کی گئی ہیں اس کے علاوہ جو نمازیں ہیں وہ رب تعالٰی کی طرف سے مومنوں کے لیے گنجائش رکھی ہے کہ کوئی شخص اگررب تعالٰی کا قرب حاصل کرنا چاہے تو وہ نوافل نمازوں
کے ساتھ حاصل کر سکتا ہے۔اسی طرح نفلی نمازوں میں قیام الیل کو غیرمعمولی فضیلت اور اہمیت حاصل ہے ،قیام الیل کہتے ہیں
رات کے آخری پہر اُٹھ کر رب تعالٰی کے حضور قیام کرنا اسے تہجد
کی نماز بھی کہا جاتا ہے،اس کے علاوہ بھی اللّٰہ کے رسولؐ مختلف اوقات میں نفل نماز ادا کرتے تھے
لہذا دو ہی طرح کی نمازیں ہوتی ہیں فرائض اور نوافل۔ تراویح کے حوالے سے ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے ہم پر فرض نہیں کی گئی بلکہ نفل کی حیثیت سے قیام الیل ہے جو ہم اداکر رہے ہوتے ہیں اور یہ بات واضح ہے کہ نبیؐ کے زمانے میں تراویح کے نام سے اس کا کوئی عنوان نہیں تھا بلکہ قیام الیل(یعنی رات کو قیام کرنا) یا قیام رمضان(رمضان کی رات کا قیام) کے طور پر ہی جانتے تھے،چونکہ قیام اللیل کی پہلے ہی فضیلت واضح تھی تو جب نبیؐ نے فرمایا کہ رمضان کے اس ماہ میں نوافل نماز کا غیر معمولی اجر ہے اور اس میں کوشش کرنی چاہے،پھر صحابہ اکرام نے بطورِ خاص اس کا اہتمام شروع کیا لیکن یہ اپنی اصل میں وہی تہجد کی نماز ہے۔جو باقی دنوں میں بھی ادا کی جاتی ہے اور رمضان میں اس کی فضیلت کا خیال کرتے ہوئے پہلے قیام رمضان اور بعد میں اسے تراویح کا نام دیا گیا ہے۔ اور علماء نے درست لکھا ہے کہ ان کی رکعات متعین نہیں اور جو جتنا پڑھ سکتا ہے اتنی پڑھ لے۔لہذا آٹھ رکعات پڑھنا بھی درست ہے اور بیس بھی 20 سے زیادہ بھی اور ہمیں چاہیے کہ جن چیزوں میں اللّٰہ اور اسکے رسولؐ نے پابند نہیں کیا ہم اُنہیں اُسی طرح بیان کر لیں
لیکن ایک بات جو ضروری ہے وہ یہ ہم وہی کام کریں جسکا اللہ نے حکم دیا ہو یا رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مہر لگی ہو. للّٰہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحیح دین سمھنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔آمین
محمد اشتیاق نعمانی سلفی
عشورہ بسفی مدھوبنی
9122019025

ماشاء اللہ
ReplyDelete