ماہ رمضان نیکیوں کا موسم

                                          محمد عرشِ عالم ندی
                                                 
ؑ رمضان المبارک کامہینہ اللہ رب العزت کی ایک عظیم نعمت ہے،یہ امت مسلمہ کے لئے خیروبرکت اور سعادت مندی کامہینہ ہے،بے شمار نعمتوں کاانمول خزینہ اورخیرواصلاح کاتحفہ ہے ،سیرت وکرداراوربھلائیوں کے پھلنے پھولنے کاموسم بہارہے، اس مہینہ میں رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بندکردئیے جاتے ہیں اورشیاطین مقید کردیا جاتا ہے ۔ اس مبارک ماہ میں اعمال صالحہ کااجروثواب عام دنوں کے مقابلے میں کئی گنازیادہ ہوجاتا ہے۔ مگراس وقت ہی جب اس مبارک ایام کی قدرکی جائے،ہرآن برسنے والی رحمتوں اوربرکتوں سے خود کومالاما ل کیاجائے اور نیکیوں سے اپنے دامن کو بھر لیا جائے۔
حدیث نبویﷺ ہے ’’لویعلم العباد مارمضان لتمنت ان یکون السنۃ کلھا‘‘(صحیح ابن خزیمہ،کتاب الصیام،باب تزیین لشھررمضان ،حدیث نمبر ۱۸۸۶)
ترجمہ: ’’اگر لوگو ں کواس بات کاعلم ہوجائے کہ رمضان کیاچیز ہے تو لوگ تمنا کرنے لگے کہ پوراسال رمضان ہوجائے۔‘‘
اسی مبارک ماہ میں قرآن شریف کانزول ہواجودائمی وابدی کتاب ہدایت ہے ،رحمت ہے نور ہے ، شفاء ہے،جس نے کو ضلالت وگمراہی کی تاریک دلدل میں پھنسی انسانیت کو ہدایت سے سرفراز کیااورخوف وہراس کوامن امان سے بدل کر زمین میں غلبہ واقتدار بخشا۔
ارشادباری ہے۔
’’شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ھدی للناس وبیٍنت من الھدی ولفرقان ‘‘ (البقرۃ:۱۵۸)’’رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیاگیا جوانسانوں کے لئے سراسرہدایت ہے۔ اورایسی واضح تعلیمات پرمشتمل ہے ،جوراہ راست دکھانے والی اورحق وباطل کافرق کھول کررکھ دینے والی ہیں۔‘‘
آپﷺ اور آپ کے صحابہؓ رمضان المبارک کے مہینے کاشدت سے انتظار فرماتے اوراس کی آمد پر خوش ہوتے تھے ۔ ایک مرتبہ نبی پاک علیہ الصلوت والسلام رمضان المبارک کی آمد کے موقع پر صحابہ کرام ؓ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا  :۔
یاایھاالناس ! قد اظلکم شھر عظیم ،شھرمبارک فیہ لیلۃ من الف شھر جعل اللہ صیامہ فریضتہ وقیامی لیلیہ توتطوعا‘‘(صحیح اب خزیمہ ،کتاب الصیام ،باب فضائل شھر رمضان ،حدیث ۱۸۷۷)’’ترجمہ:اے لوگو! تم پر ایک بڑی عظمت وبابرکت والا مہینہ سایہ فگن ہورہاہے، اس میںایک رات ہے جوہزاروں مہینوں سے افضل اور بہتر ہے، اس مہینے کے روزے کوفرض مقرر کیاہے اور اس کی راتوں میں کھڑاہونے کو نوافل قراردیاہے ۔‘‘
روزے کی فرضیت
اسلام کی پانچ بنیادی ارکان میںچوتھارکن روزہ ہے،دوسرے احکام کی طرح اس کی بھی فرضیت بتدریج عائد کی گئی ۔ نبی کریمﷺنے ابتدامیں مسلمانوں کوہر ماہ تین روزے رکھنے کی ہدایت فرمائی تھی ، مگر یہ روزے فرض نہ تھے۔شعبان     ۲؁ھجری میں اس کی فرضیت کاحکم قرآن کریم میں نازل ہوا ۔
’’یاایھالذین اٰمنواکتب علیکم الصیام کماکتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون‘‘
(البقرہ ۱۳۸)ترجمہ:۔’’ اے لوگو! جوایمان لائے ہوتم پرروزے فرض کردئے گئے جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروؤں پرفر ض کئے گئے تھے، اس سے توقع ہے کہ تم میں تقوی کی صفت پیداہوگی۔‘‘
دوسری آیت میں ارشاد ہے۔
’’ فمن شھد منکم شھر فلیصہ‘‘(البقرہ۱۵۸)’’ اس مہینہ کوجوشخص پائے، اس کولازم ہے اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔‘‘
روزے کئے لئے قرآن کریم نے صوم کا لفظ استعمال کیاہے۔’’الامساک عن الشی و الترک لہ‘‘  یعنی کسی چیز سے رکے رہنااوراسے ترک کرینا۔
اصطلاح شرع میں مکلف انسان کاروزے کی نیت کے ساتھ طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور جنسی خواہشات سے باز رہنے کانام روزہ ہے۔
روزہ قدرت کے ان قوانین میں سے ہے جس سے نہ اگلے بے نیازرہ سکتے تھے اور نہ پچھلے اس سے مستغنی سوسکتے ہیں۔ روزہ انسان  کے ہرجزء پرفرض کیاگیاہے، مثلا زبان کارو زہ یہ ہے کہ اسے  غیبت ،چغل خوری ،خودستائی وخود نمائی اورفضول کی باتوں میں ملوث ہونے سے روکے ،آنکھ اورکان کاروزہ یہ کہ اسے ناجائز وواہیات اور لہوو لعب میں پڑنے سے محفظ رکھے، ایسے ہی تمام اعضاء حتی کہ نفس کوحرص وہوس اور دل کو دنیاکی محبت سے خالی رکھے۔
روزے کا مقصد
روزہ اطاعت وبندگی اور اظہارتشکر کااہم ذریعہ ہے، روزے کااصل مقصد تقوی ،طہارت روح ، صفائے قلب ،خوف خدااوراس کی رضاہے، روزے کے ذریعہ تسخیرِخودی ، ضبط نفس،اعتدال مزاج اور دوسرے تمام تراخلاقی محرکات کوابھاراجاتاہے تاکہ ناقص اورخام انسانی موادروزہ کی بھٹی میں تپ کرہرطرح کے کھوٹ اورآلائشوں سے پاک وصاف ہوجائے، انسان کی شخصیت سنورجائے،اس کی سیرت وکردار پختہ ومضبوط ہوجائے۔ جوشخص معصیت کی وجہ سے اللہ کے عذاب کامستحق ہوجاتاہے ، روزے کی وجہ سے عذاب سے محفوظ رہتاہے ۔
حضوراکرم ﷺکاارشاد ہے :۔
’’من صام رمضان ایماناواحتساباغفرلہ ماتقدم من ذنبہ‘‘(،صحیح بخاری،کتاب الصوم ،باب من صام رمضان ایماناواحتساباونیتہ،حدیث نمبر۱۹۱)ترجمہــــ:۔’’جس نے ایمان واحتساب کے ساتھ رمضان المبارک کاروزہ رکھا، تو اس کے سب گناہ معاف کردئے گئے جواس سے پہلے سرزد ہوئے تھے۔‘‘
گناہوں سے ڈھال ہے
حدیث نبوی ﷺ ہے ’’الصیام جنۃ‘‘(صحیح بخاری ،کتاب الصوم ،باب فضل الصوم ،حدیث نمبر ۱۸۹۴)
روزہ ڈھال ہے ۔‘‘
جس طرح دشمن کے حملے اور کاری ضرب کوڈھال کے ذریعہ سے روکاجاتاہے ٹھیک اسی طرح روزہ گناہوں کوروکنے کے لئے ڈھال ہے، جیسے خدانخوستہ برائی کاکوئی موقع آجائے ، اور انسان یہ سوچ کرا س برائی سے محفوظ ہوجائے کہ اس کاروزہ ہے ،تو روزہ حقیقت میں اس برائی کے مقابلے میں ڈھال ہے، لیکن اس کے برعکس یہ جانتے ہوئے کہ اس کاروزہ ہے اورپھرجان بوجھ کر اس برائی میں ملوث رہاتوخداکو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپناکھاناپیناچھوڑدے۔
نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:۔ 
’’کم من صائم لیس لہ من صیامہ الاالجوع  وکم من قائم لیس لہ من قیامہ الاالسھر‘‘ (عن ابی ھریرۃؓ، مسند احمد،حدیث نمبر۹۶۸۳)
ترجمہ:۔ کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں کہ روزے سے بھوک پیاس کے سوا ان کے پلے کچھ نہیں پڑتااور کتنے ہی راتوں کوکھڑارہنے والے ایسے ہیں جنھیں اس قیام سے رات جگنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
لہذا اس ڈھال کوٹوٹنے سے بچانے اور اسے مضبوط کرنے کاطریقہ یہ کہ آدمی خود بدکلامی وفحش گوئی اور لہوولعب سے اجنتاب کرے اور گناہ سے بچنے کی فکر کرے، اگرپھر بھی کوئی الجھے اور برائیوں میں ملوث کرنے کی کوشش کرے تویہ کہہ کرر کنارہ کشی اختیار کرلی جائے کہ میراروزہ ہے۔
روزہ کمال تقرب کاذریعہ
’’الصیام لی و انااجزی بہ‘‘( صحیح بخاری ،کتاب الصوم فضل الصوم،حدیث نمبر ۱۸۹۴،)
ترجمہـ:۔’’  روزہ میرے لئے ہے اورمیں ہی اس کابدلہ دوںگا۔‘‘
  روزہ میں انسان کو فرشتوں سے بڑی حد تک مشہابہت حاصل ہوتی ہے ،فرشتے کھانے پینے کی ساری ضرورتوں سے مستغنی ہیں، ان کی غذاخداکی حمدوتسبیح ہے، روزہ کی حالت میں مؤمن بندہ بھی خواہشات نفس ا ورکھانے پینے سے کناوہ کشی ہوکر خداکی بندگی اورعبادت میں مصروف نظرآتاہے۔ ( کلام نبوت اول، از محمدفاروق خاں ،ص۴۵۳)
دوسری بات یہ ہے کہ روزے کے علاوہ جتنی عبادتیں ہیں وہ کسی نہ کسی شکل میں ظاہری حرکت سے کی جاتی ہے،اسے دوسروں سے چھپانابھی قدرے مشکل ہوتاہے مثلانماز ، زکوۃ،صدقہ وخیرات اورحج وغیرہ۔ لیکن روزہ ایسا خاموش اور غیرمرئی عمل ہے ، جسے بندہ اوررب کے سواکوئی نہیں جانتا،باوجود اس کہ انسان تنہائی میں ہوتاہے اسے شدت کی بھوک اورپیاس لگی ہوئی ہوتی ہے ، اس کے سامنے عمدہ ولذیذ کھانااورٹھنڈاپانی ہوتاہے ، مگر اس کااعتقاد اللہ پراتنامضبوط اور قوی ہوتاہے کہ شدید بھوک اور پیاس کے باوجود بھی نہ کھانے کا نہ ایک لقمہ  اپنے حلق سے نیچے اتارتاہے اور نہ پانی کاایک گھونٹ منہ میں ڈالتاہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت اس کابدلہ بے حدوحساب  عطافرمائے گاجس کابندے کوخودبھی وہم وگمان بھی نہ ہوگا۔
 صبرواستقامت کااہم زریعہ
روزہ فی نفسہ ایک تربیت اور مشق ہے،جس سے بندہ مومن میں بے شمار عمدہ خصلتیں اورخوبیاں پیداہوتی ہیں۔ نفسانی خواہشات پرقابو اور اسے جڑسے اکھاڑپھینکنے کاملکہ حاصل ہوتاہے، صبروشکر کی کیفیت نشونماپاتی ہے،خواہشات نفس،شدیدمصائب وآلام سے نمٹنے کاجذبہ پروان چڑھتاہے۔
اسی لئے آپﷺنے روزے کے مہینہ کو ’’صبر‘‘ کامہینہ کہاہے ۔ رمضان کے مہینے میںمسلسل ایک مہینے تک صبر، ضبط اورخداکی اطاعت کی مشق کرائی جاتی ہے۔
’’عام حالات میں آدمی کودوسروں کی تکلیف اوربھوک پیاس کااحساس نہیں ہوپاتا۔روزہ میں بھوک پیاس کاعملی تجربہ فطری طور پریہ احساس ابھارتاہے کہ ناداروں اور ضرورتمندوں کے ساتھ ہمدردی سے پیش آئے اور انہیں ان کی پریشان حالی میں نہ چھوڑے ۔ نبی کریم ﷺ رمضان کے مہینے کو ’’مواسات کامہینہ ‘‘ کہتے تھے اوراس مہینہ میں آپ انتہادرجہ فیاض ہوتے تھے۔کوئی سائل دروازے سے خالی نہیں جاتاتھا اورنہ کوئی قیدی قیدمیں رہتاتھا‘‘ ( کلام نبوت اول ،از محمدفاروق خاں،ص۴۵۳)
حدیث پاک میں آتاہے۔
’’انفق یابن آدم انفق علیک‘‘ (صحیح بخاری،کتاب النفقات، باب فضل النفقۃ علی الاھل ، حدیث نمبر۵۳۵۲)ترجمہ :۔ ’’اے ابن آدم توخرچ کرمیں تجھ پرخرچ کروں گا۔‘‘
صدقہ وخیرات کرنے سے مال ودولت میں کمی نہیں آتی بلکہ اللہ تعالی کی بخشش مزیدبڑھ جاتی ہے ، اس کی برکت سے نیک اوراچھے کاموں کی توفیق ملتی ہے۔مصیبت دورجاتی ہوجاتی ہے۔ایمان کامل ومظبوط ہوتاہے۔
بشرطیکہ ریاء ،نام ونمود کادوردورتک شائبہ ہواور نہ ہی کسی کی خوشامدمطلوب ہو، بلکہ خالصتہ لوجہ اللہ ہو ۔اس مہینہ میں جوبھی نیکیاں کی جاتی ہیں ان کا ثواب عام دنوں کے مقابلے میں کئی گنابڑھ جاتاہے۔
آپﷺ کاارشادگرامی ہے۔
’’کل عمل ابن آدم یضاعف ،الحسنۃ عشرامثالھاالی سبعتہ مائۃ ضعف‘‘(صحیح بخاری،باب فضل الصوم ،حدیث نمبر ۲۷۰۷)
ترجمہ :۔’’ ابن آدم کے ہرعمل کاثواب دس گنے سے سات سوگناتک بڑھایاجاتاہے۔‘‘
آج کل ہمارے ملک بلکہ پوری دنیامیں کروناوائرس جیسی مہلک وباء پھیلنے کی وجہ سے عام لوگوں کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے، روز مرہ کے معمولات بری طرح متاثرہوگئے ہیں ،آمدنی کے ذرائع ختم ہوگئے ہیں ، روزگاربے روزگاری کے شکار ہوتے چلے جارہے ہیں۔ بالخصوص لاک ڈاؤن کی وجہ سے یومیہ مزدوری کرنے والاطبقہ بہت زیادہ متاثرہوا ہے۔ اگرو ہ کام پر نہیں جاتے ہیں تووہ اپنے اہل وعیال کے لئے ضروی اشیاء اورکھانے پینے کابھی بندوبست نہیں کرپارہے ہیں ۔کئی گھر اورخاندان ایسے ہیں ،جنہیں دووقت کی روٹی صحیح سے میسر نہیں ہورہی ہے۔ ایسے حالات میں تمام اہل خیرحضرات کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے گردونواح کاجائزہ لیں، ضرورتمندوں کی حاجت روائی کانطم کریں ۔تاکہ کل روزمحشر میں شاید اللہ رب العزت کے اس سوال سے بچ سکیں۔
یاابن آدم !  استطعمتک فلم تطعمنی،قال رب وکیف اطعمک؟ وانت رب العالمین، قال: اماعلمت انہ استطعمک عندی فلان فلم تطعمہ؟اماعلمت انک لواطعمتہ لوجدت ذلک عندی؟یاابن آدم !استسقیتک فلم تسقنی،قال رب!کیف اسقیک؟ وانت رب العالمین، قال:استقاک عبدی فلان فلم تسقیہ،اماانک لواسقیتہ وجدت ذلک عندی‘‘(صحیح مسلم،باب فضل المریض،حدیث نمبر ۱۲۵۶۹)
’’اللہ رب العزت فرمائے گا،اے ابن آدم میں بھوکااورپیاساتھا،تم نے مجھے کھلایااور نہ ہی پلایا۔ بندہ کہے گا!اے رب کیسے میں آپ کوکھلاتااورپلاتا آپ تورب العالمین ہے ،تواللہ تعالی کہے گا کہ میرافلاں بندہ بھوکااورپیاساتھا اگر تو اسے کھلاتااورپلاتا تو تومجھے وہاں پاتا۔‘‘
ابھی چنددنوں بعدرمضان المبارک کامقدس مہینہ شروع ہونے والاہے ، ہمارے اردگرد کئی ایسے روزہ دار ہونگے ، جنہیں روزہ رکھنے اورافطارکرنے لئے بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں ہوپاتی ہیں ، مگران کی غیرت وحمیت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ کسی کے سامنے دست سوال دراز کرے۔
لہذاجہاں ہم اپنے افطاراورکھانے کے میزکومختلف قسم کے عمدہ اورلذیذغذاؤں سے مزین کرتے ہیں ،عیدکے موقع سے اہل وعیال کے لئے عمدہ سے عمدہ لباس بنوانے کانظم کرتے ہیں ،وہی اس بات کابھی ازحد خیال رکھناضروری ہے کہ کم ازکم دوچارچیزیں ہی سہی غرباء ومساکین ،ضرورتمندوں اورمحتاجوں کے لئے بھی تیار

کرنااوران تک پہنچنا ہمارادینی وملی فریضہ ہے۔

محمد عرشِ عالم ندوی
ریسرچ اسکالر ادارہ تحقیق وتصنیف اسلامی علی گڑھ       
arshealam1994@gmail.com     

Comments