ماں کی ممتا اور ہمارا سلوک




Comments

  1. جب اللہ تعالی نے ماں کو بنایا توفرشتوں کوحکم دیا کہ جاؤ چاند کی ٹھنڑک شبنم کے۔آنسو بلبل کے نغمے گلاب کے رنگ چکوری کی تڑپ پھول کی جوبصورتی کوئل کی کوک سمندر کی گہرائ دریاؤں کی روانی موجوں کا جوش کہکشاں کی رنگینی زمین کی چمک اس میں شامل کرو۔
    اورجب اللہ تعالی نے ماں کو بنا لیا توفرشتوں نے پوچھاائے مالک دوجہاں تونےاس میں اپنی طرف سے کیا شامل کیا ؟
    تو اللہ۔رب العزت نے فرمایامحبت صرف محبت۔اور آج ان ھی صفات کی حامل ماؤں کے ساتھ جواس دنیا میں ھورھا ھےوہ ھم سب پر عیاں ھے وہ مائیں جواپنےبچوں کی خواھش کی خاطر اپنی خواھشات کوقربان کردیتی ھیں یہاں تکہ کہاجاتاھے جب روٹی چارھواور بچے بھی چارھو تو ماں کہتی ھے کہ مجھکو بھوک نہیں لگی ھے اور بعض والدین(parents)توبچوں کے مستقبل(future)کے خاطراپنی آخرت تک کوداؤ پرلگا دیتے ھیں اور جب والدین بوڑھےھوجاتے ھیں تویہی بچےجس کلئے والدین نے کیا کیا تکلیفیں نہیں اٹھائ وہ ان کے ساتھ کیا سلوک(Behave)کرتےھیں جب ان کوبیان کرناچاھتاھوں توکلیجہ منھ کوآنے لگتاھے اور دور جدید کے لوگوں نےتو Old house کا انتظام کر رکھاھے اور جب والدین بوڑھے ھو جاتے ھیں تواسی Old house میں رکھ دیتے ھیں اور سال میں ایک دو مرتبہ ملنے چلے جاتے ھیں اور سونچتے ھیں کہ ھم نے ان کے حقوق کوادا کر دیا جوکہ بالکل غلط ھے حدیث میں آتا ھیکہ کوئ شخص ماں کے ایک کھونٹ دودھ کا بھی حق ادا نہیں کر سکتا
    ایک دن کی بات ھےایک لڑکا بارش میں بھیگ کر جب گھر آیا۔تودروازے پہ والد سے ملاقات ھوئ تو والد نے کہا کیوں بھیگ کر آئےھو طبعیت خراب ھوگی تو پھر بتاتا ھوں ۔بیوی نے کہا آپ کی تو روز روز بھیگ کر آنے۔کی عادت ھے بہن کہا کچھ دیر رک جاتے بھیگنے کی کیا ضرورت تھی اور جب ماں کی نظر بیٹے پرپڑی توبولی میریے لال جلدی سے کپڑے بدل لو ورنہ طبعیت خراب ھوجائگی یہ ھوتی ھے ماں کی ممتا اور آج ھم کس طرح سےاس ممتا کوٹھکرارھے ھیں اور انکے ساتھ کس طرح کا سلوک (Behave)کر رھے ھیں جبکہ قرآنی آیات ھمیں چیخ چیخ کر کہ رہی ھیکہ اپنے والدین (Parents)کےساتھ اچھا سلوک کرو ۔
    ایک مدت سے میری ماں سوئ نہں تابش
    میں نے ایک بار کہاتھا مجھکوڈر لگتا ھے
    پیارےبچوں!روٹی کی اہمیت بھوکے سے پوچھواور پانی کی اھمیت پیاسے سے اور اسی طرح ماں کی اھمیت ان سے جاکر پوچھو جن کے پاس ماں نہیں ھوتی ھے وہ کس طرح ماں کی ممتا کیلیےترستاھے ۔اللہ ھم تمام لوگوں کو ماں کی خدمت کرنے کی توفیق دے آمین
    اپنےبچوںسےلگارکھتے ھیں سب کیاکیا امیدیں
    خوش نصیبی ھے جواپنے پیڑ کاپھل کھا سکیں
    پوری کرتے رھتے ھیں بیوی کی سب فرمائشیں
    مگر بوڑھی ماں کا ایک چشمہ نہیں بنوا سکیں
    توماں کہتی ھے
    اگر میرا ٹوٹاھواچشمہ بنوا دیا ھوتا
    تومیں اچھاساگل اچھاسامہورت دیکھ سکتی تھی
    مجھےخواہش کہاں کہ میں دنیا کودیکھوں اےمیرے بیٹے
    مگرچشمہ لگاکر تیری صورت دیکھ سکتی تھی

    محمد اشتیاق نعمان عشورہ بسفی کمتول مدھوبنی
    دارالعلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ

    ReplyDelete

Post a Comment