ماں کی ممتا اور ہمارا سلوک
محمد اشتیاق سلفی جب اللہ تعالی نے ماں کو بنایا توفرشتوں کوحکم دیا کہ جاؤ چاند کی ٹھنڑک شبنم کے۔آنسو بلبل کے نغمے گلاب کے رنگ چکوری کی تڑپ پھول کی جوبصورتی کوئل کی کوک سمندر کی گہرائ دریاؤں کی روانی موجوں کا جوش کہکشاں کی رنگینی زمین کی چمک اس میں شامل کرو۔ اورجب اللہ تعالی نے ماں کو بنا لیا توفرشتوں نے پوچھاائے مالک دوجہاں تونےاس میں اپنی طرف سے کیا شامل کیا ؟ تو اللہ۔رب العزت نے فرمایامحبت صرف محبت۔اور آج ان ھی صفات کی حامل ماؤں کے ساتھ جواس دنیا میں ھورھا ھےوہ ھم سب پر عیاں ھے وہ مائیں جواپنےبچوں کی خواھش کی خاطر اپنی خواھشات کوقربان کردیتی ھیں یہاں تکہ کہاجاتاھے جب روٹی چارھواور بچے بھی چارھو تو ماں کہتی ھے کہ مجھکو بھوک نہیں لگی ھے اور بعض والدین(parents)توبچوں کے مستقبل(future)کے خاطراپنی آخرت تک کوداؤ پرلگا دیتے ھیں اور جب والدین بوڑھےھوجاتے ھیں تویہی بچےجس کلئے والدین نے کیا کیا تکلیفیں نہیں اٹھائ وہ ان کے ساتھ کیا سلوک(Behave)کرتےھیں جب ان کوبیان کرناچاھتاھوں توکلیجہ منھ کوآنے لگتاھے اور دور جدید کے لوگوں نےتو Old house کا انتظام کر...